Saturday 1 February 2014

February 01, 2014
اگر میں کہوں کہ باغبانی کا شوق مجھے ورثے میں ملا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہوش سنمبھالتے ہی اپنی امی جان کوگھر کے صحن میں پڑے گملوں، خالی ڈبوں، کیاریوں اور دوسرے ناکارہ برتنوں میں دھنیا، پودینہ،ہری مرچیں، ٹماٹر، کدوکریلے اور دیگرسبزیاں، پھل پودے اُگاتے اور اُن کی دیکھ بھال کرتے پایا اور یہی شوق رفتہ رفتہ مجھ میں بھی سرائت کرتا گیا۔ مجھےیاد ہے جب ہم بچپن میں امی جان کے ساتھ مل کر گھر کے صحن میں سبزیاں اُگایا کرتے تھےاور جب اُن پودوں میں پھول لگتے یا پھل یا سبزیاں لگتی تو ہماری خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ بازار سے تو ہم رنگ رنگ کی ہر قسم کی سبزیاں خرید کر لے آتے ہیں مگر وہ خوشی اور تسلی نہیں ملتی جو اپنے ہاتھ کی اُگی ہوئی پھولوں اور سبزیوں میں ہوتی ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں میں خاص کر تازہ سبزیوں کی مانگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شہروں کے قریب زرخیز زمینیں نئی آبادکاریوں کی وجہ سے معدوم ہوتی جارہی ہیں۔ جبکہ رہی سہی کسر فصلوں پر حد سے زیادہ زہریلی سپرے اور مصنوعی کھادوں کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات نے پوری کردی ہے۔ گاؤں اور دیہات میں رہنے والے افراد کے لئے تو شاید یہ کوئی بڑا مسئلہ نہ ہوگا مگر شہری افراد کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔
حالیہ دنوں میں ملک کے کئی بڑے شہروں میں کچن گارڈنگ کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے کئی ایک تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جن میں گھریلو خواتین کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی شریک کیا گیا۔ پنجاب کی حکومت نے تو عوام میں سبزیوں کے بیج وغیرہ بھی بانٹے ہیں تاکہ گھروں میں سبزیوں کو اُگایا جاسکے۔
گھروں میں پودوں، پھلوں اور سبزیوں کی کاشت میں بچوں کو شریک کرنا بہت ہی صحت مندانہ فعل ہے۔ اگر چھوٹی سی عمر سے اُن میں یہ ادراک پیدا ہوجائے کہ اپنے ہاتھ کی اُگائی ہوئی سبزیاں مارکیٹ سے خریدی ہوئی سبزیوں سے بہت بہتر ہوتی ہیں تو نہ صرف یہ اچھی صحت کے لئے مفید ہے بلکہ ہمارے گھریلو بجٹ پر بھی بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ آج کل بچے اگر  سکول و کالج کے بھاری بھر کم بستوں ، ٹیوشن وغیرہ سے فارغ ہوتے ہیں تو زیادہ تر وقت ٹی وی، کمپیوٹرگیمز یا ایسی کسی دوسری غیر صحتمندانہ مصروفیات میں گزارتے ہیں جن کا ذہن اور جسمانی صحت پر کوئی خاص مثبت اثر نہیں ہوتا اگر اُن کو چھوٹی عمر سے ہی مثبت کاموں میں ڈال دیا جائے تو وہ ایک مفید شہری ثابت ہوسکتے ہیں اور یہ خواہش ہر والدین کی ہوتی ہے۔ میری ان باتوں سے شاید کچھ افراد اختلاف بھی کریں کیونکہ شہروں میں گھروں کے اندر اتنی جگہ دستیاب نہیں ہوتی کہ جہاں یہ شوق پورا کیا جاسکے مگر اس کے لئے بھی بہت سارے متبادل زرائع موجود ہیں جو کہ کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے فائدہ مند بھی ہیں۔ گھروں میں گملوں میں ، خالی ڈبوں اور ناکارہ برتنو، کریٹ اور کارٹن وغیرہ، ٹوٹی ہوئی بالٹیوں اور خراب ڈرمز وغیرہ میں بہ آسانی مٹی بھر کر پودے اور سبزیاں اُگائی جاسکتی ہیں۔ پودینہ، ہرا دھنیہ، مرچ اور ٹماٹر تو بغیر کسی اضافی محنت کے نہایت ہی آسانی سے اُگائی جانے والے پودے ہیں اور اگر ان سارے کاموں میں آپ اپنے بچوں کو بھی شریک کریں تو یقیناً یہ اُن کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ اُن کی ذہنی نشونما میں بھی مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ 
ہمارے فیصل آباد کے دوست جناب طارق تنویر صاحب کچن گارڈننگ اور گھریلو سطح پر مشرومز اور دیگر اقسام کی سبزیاں اور پھل اُگانے کے لئے خواتین و بچوں اور سکول کے طلبہ و طالبات کے لئے اپنے فارم "قادر بخش فارمز" پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی پروگرام بناتے رہتے ہیں۔ خاص کر چھوٹے بچوں کی باغبانی میں اُن کو خود شریک کرکے اُن کے شوق کو پروان چڑھا رہے ہیں، وہ اپنے فارم پر ایسے پروگرام منعقد کرتے رہتے ہیں جن سے چھوٹے بچے باغبانی میں دلچسپی لیں اور خود پودے اُگائیں، اُن سے پھل اور سبزیاں توڑیں۔ ایسی سرگرمیوں میں بچوں کو شریک کرنے سے نہ صرف اُن میں باغبانی کا شوق پیدا ہوتاہے بلکہ وہ اپنے گھروں میں اگر زمین کا قطعہ ہے تو ٹھیک نہیں تو گملوں وغیرہ میں پودے اور پھل سبزیاں اُگا کر ایک مثبت شوق کو پال سکتے ہیں۔ ہمارے آس پاس اوربھی بہت سارے ایسے لوگ ، ادارے، نرسریاں اور فارمز ہونگے جو کہ بچوں اور طلباو طالبات کی اس ضمن میں تربیت کرتے ہونگے مگر وہ لوگ منظر عام پر شاید نہ آتے ہونگے۔ اگر یہ تحریر اُن تک پہنچتی ہے تو اپنے تجربات ضرور ہمارے ساتھ شیئر کریں ہوسکتا ہے کہ اُن کے آس پاس کوئی  موجود ہو جو باغبانی کا شوق رکھتا ہو مگر اُس کی پہنچ نہ ہواور آپ کے ادارے یا نرسری یا فارم سے فائدہ اُٹھا سکے۔ والدین بھی اگر اپنے بچوں کو فارغ وقت میں کسی بھی نرسری، پارک یا کسی دوسری ایسی جگہ لے جاکر سیر وتفریح کروائیں اور اُن کو پودوں کی حفاظت اور اُن کو اُگانے کے سلسلے میں گائیڈ کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ اُن میں پودوں سے محبت کا جذبہ پیدا نہ ہوگا۔ بہت سارے پرائیوٹ تعلیمی ادارے اپنے طلباء کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا تربیتی پروگرام ترتیب دیتے رہتے ہیں مگر سرکاری شعبہ تعلیم اس خصوصیت سے عاری نظر آتا ہے۔ مثبت تفریح کے ساتھ ساتھ تربیت تو ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ ایسےہی ایک خبر پر نظر گزری جس میں ایس او ایس ویلیج کے بچوں کو فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کا دورہ کرایا گیا اور اُن کو یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے ساتھ ساتھ پودوں اور پھلوں ، سبزیوں اور پھولوں کے متعلق آگاہی دی گئی۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ ہمارے صوبے میں کسی نے اس طرح کا کام کیا ہو یا اگر کیا ہو تو میری نظر سے نہیں گزرا۔ 
بچوں کو باغبانی اور کچن گارڈننگ جیسے کاموں میں شریک کرنا بہت ہی مثبت اقدام ہے اور اس کے ذریعے گھریلو سطح پر ہم چھوٹی موٹی سبزیاں اُگا کر نہ صرف اپنے کچن کی ضرورت پوری کرسکتے ہیں بلکہ دوست احباب کو بطور تحفہ بھی دے سکتے ہیں۔ 

0 comments:

Post a Comment